واشنگٹن،24؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کے 40سے زائد ارکان پارلیمنٹ کے گروپ نے بین الاقوامی باسکٹ بال فیڈریشن سے اپیل کی ہے کہ وہ پگڑیوں کولے کر سکھ کھلاڑیوں کے خلاف امتیازی پالیسی ختم کرے۔ممبران پارلیمنٹ نے بین الاقوامی باسکٹ بال فیڈریشن(فبا)کے صدر ہوراسیو مراتوری کو خط میں لکھا کہ سکھ دنیا بھر میں بہت سے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں اور ایک بھی ایساواقعہ نہیں ہے جس میں پگڑی کی وجہ سے کسی کو چوٹ لگی ہو یا نقصان پہنچا ہو یا پگڑی نے کھیل میں رکاوٹ ڈالی ہو۔ایم پی کو کرالی اور ہند نژاد ایمی اوربیرا کی قیادت میں کل بھیجے گئے اس خط میں 40سے زائد ممبران پارلیمنٹ نے دستخط کئے ہیں۔یہ خط بین الاقوامی فیڈریشن کے ممکنہ فیصلے سے پہلے لکھا گیا ہے۔کرالی اور ایمی نے مشترکہ بیان میں کہاکہ ہر دن فبا اس پر فیصلے کواگلے دن کیلئے ٹال رہا ہے کہ سکھ نہیں کھیل سکتے۔کرالی اور ایمی نے کہا کہ یہ ایسی پالیسی ہے جسے امتیازی اور ٹیم کھیل کے احساس کے مکمل طور برعکس قرار دیا جا سکتا ہے اور اس میں تبدیلی کا وقت کافی پہلے آ چکا ہے تو ہم کارروائی کے لئے زور دے رہے ہیں جس میں ہمارا تازہ ترین خط بھی شامل ہے اور ہم ان سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنی آوازاٹھائی۔فبا کو ہمارا پیغام واضح ہے۔فبا کی یہ امتیازی پالیسی 2014میں سامنے آئی تھی جب دو سکھ کھلاڑیوں کو ریفریوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں فبا کے ایشیا کپ میں کھیلنا ہے تو انہیں اپنی پگڑی ہٹانی ہوگی۔